بنگلورو۔7/اکتوبر(ایس او نیوز) شہر کے بلندور میں کل دوپہر زیر تعمیر گھٹیا معیار کی عمارت گرنے کے نتیجہ میں تین افراد کی موت واقع ہوگئی تھی اور دو کی حالت نازک بتائی گئی تھی، ذرائع نے خبر دی ہے کہ اسپتال میں داخل ایک شخص آج زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا، جس کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر چار ہوگئی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آج شہر کی پولیس نے اس عمارت کے مالکان کو گرفتار کرلیا۔ این ڈی آر ایف کے کارکنوں کی طرف سے اس عمارت کے ملبے میں مزید افراد کے پھنسے رہنے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے آج بھی تلاشی مہم کچھ دیر تک جاری رکھی گئی،بعد میں اس عمارت کا ملبہ بھاری مشینوں کی مدد سے ہٹادیا گیا۔ اس عمارت کے مالک حیدرآباد کے ساکن سرینواسلو ریڈی اور للت کمار کو کل رات پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ایچ ایس آر لے آؤٹ پولیس تھانہ میں ان دونوں کے خلاف تعذیرات ہند کی دفعہ 304 کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ان کے ساتھ ہی جملہ چھ ملزمین پر ایف آئی آر داخل کیاگیا ہے۔ اس عمارت کے آر کیٹک،آر کے اسوسی ایٹ، معیار کی تصدیق کرنے والے انجینئروں اور بلڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ اس عمارت کو تین منزلوں تک تعمیر کی اجازت دینے کے بعد پانچویں منزل کھڑی ہونے تک خاموش رہنے والے بی بی ایم پی افسران کے خلاف بھی فوجداری مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ بی بی ایم پی کے اڈیشنل کمشنر منوج کمار نے بلندور گیٹ کے قریب آج اس عمارت کے ملبے کا معائنہ کیا اور کہاکہ اس عمارت کی تعمیر کے مرحلے میں لاپرواہی برتنے والے جو بھی ہوں ان افسران کو بخشا نہیں جائے گا۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمارت کی تعمیر میں گھٹیا معیار کی اشیاء کے استعمال کی شکایات کے باوجود بی بی ایم پی نے ایک بار بھی اس کی جانچ نہیں کی۔ اس علاقہ میں عمارتوں کی جانچ کیلئے صرف ایک بی بی ایم پی انجینئر متعین ہے۔اس انجینئر نے جانچ کے بعد عمارت کو معیاری ہونے کی سند جاری کی۔ بی بی ایم پی کی طرف سے اس انجینئر کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ تین منزلہ عمارت کی اجازت لے کر پانچ منزلہ عمارت کھڑی کرنے کے الزام میں بھی مالکان کے خلاف بی بی ایم پی مقدمہ درج کررہی ہے۔ کل اس عمارت کے گرنے سے زخمی ہونے والے افراد کا قریبی نجی اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ آج بی بی ایم پی نے اس عمارت کے ملبے کو ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے۔